کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس بات کا بیان کہ اس سائل کے کیے ہوئے گناہ کی حد ایسی نافرمانی نہیں تھی جو حد کو واجب کرے
حدیث نمبر: 1728
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ النَّخَعِيِّ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، وَالأَسْوَدِ ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ : " جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : إِنِّي أَخَذْتُ امْرَأَةً فِي الْبُسْتَانِ ، فَأَصَبْتُ مِنْهَا كُلَّ شَيْءٍ إِلا أَنِّي لَمْ أَنْكِحْهَا ، فَافْعَلْ بِي مَا شِئْتَ ، فَلَمْ يَقُلْ لَهُ شَيْئًا ، ثُمَّ دَعَاهُ ، فَقَرَأَ عَلَيْهِ هَذِهِ الآيَةَ : " أَقِمِ الصَّلاةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِنَ اللَّيْلِ إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ سورة هود آية 114 " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : الْعَرَبُ تَذْكُرُ الشَّيْءَ إِذَا احْتَوَى اسْمُهُ عَلَى أَجْزَاءٍ وَشُعُبٍ ، فَتَذْكُرُ جُزْءًا مِنْ تِلْكَ الأَجْزَاءِ بِاسْمِ ذَلِكَ الشَّيْءِ نَفْسِهِ ، فَلَمَّا كَانَتِ الْمَحْظُورَاتُ كُلُّهَا مِمَّا نُهِيَ الْمَرْءُ عَنِ ارْتِكَابِهَا ، وَاشْتَمَلَ عَلَيْهَا كُلَّهَا اسْمُ الْمَعْصِيَةِ ، وَكَانَ الزِّنَى مِنْهَا يُوجِبُ الْحَدَّ عَلَى مُرْتَكِبِهَا ، وَلَهَا أَسَبَابٌ يُتَسَلَّقُ مِنْهَا إِلَيْهِ ، أُطْلِقَ اسْمُ كُلِّيَّتِهِ عَلَى سَبَبِهِ الَّذِي هُوَ الْقُبْلَةُ وَاللَّمْسُ دُونَ الْجِمَاعِ .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: میں نے ایک باغ میں ایک عورت کو پکڑ لیا اور میں نے اس کے ساتھ صحبت کرنے کے علاوہ ہر عمل کیا۔ اب آپ جو چاہیں میرے ساتھ سلوک کریں۔ (راوی بیان کرتے ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کچھ نہیں کہا:۔ آپ نے اسے بلایا اور اس کے سامنے اسے تلاوت کیا۔ ” دن کے دونوں کناروں میں، رات کے کچھ حصے میں نماز قائم کرو بیشک نیکیاں گناہوں کو ختم کر دیتی ہیں ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عرب بعض اوقات کسی چیز کا تذکرہ کرتے ہیں۔ جس کا نام کئی اجزاء اور شعبوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ پھر عرب ان اجزاء میں سے کسی ایک جزء کا ذکر، اس پوری چیز کے نام سے کر دیتے ہیں، محظورات کی تمام اقسام کے ارتکاب ہے بندوں کو منع کیا گیا ہے۔ اور ان سب پر لفظ ” معصیت “ کا اطلاق ہوتا ہے۔ ان میں سے ایک زنا ہے جو اپنے مرتکب پر حد کو واجب کر دیتا ہے۔ اس کی کچھ اسباب ہیں، جو اس کی طرف لے جاتے ہیں، تو یہاں ایک سبب کا اطلاق پورے فعل پر کر دیا گیا ہے اور وہ سبب بوسہ لینا اور چھونا ہے، صحبت کرنا مراد نہیں ہے۔