کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ حدیث صرف اعمش نے بیان کی
حدیث نمبر: 1726
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، بِتُسْتَرَ ، حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ ، حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُضَرَ ، عَنِ ابْنِ الْهَادِ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " أَرَأَيْتُمْ لَوْ أَنَّ نَهْرًا بِبَابِ أَحَدِكُمْ يَغْتَسِلُ مِنْهُ كُلَّ يَوْمٍ خَمْسَ مَرَّاتٍ ، مَا تَقُولُونَ ، هَلْ يُبْقِي مِنْ دَرَنِهِ شَيْئًا ؟ " . قَالُوا : لا يَبْقَى مِنْ دَرَنِهِ شَيْءٌ . قَالَ : " ذَلِكَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ، يَمْحُو اللَّهُ بِهِ الْخَطَايَا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تمہارا کیا خیال ہے اگر تم میں سے کسی ایک کے دروازے پر نہر بہتی ہو اور وہ اس میں روزانہ پانچ مرتبہ غسل کرتا ہو تو تم اس بارے میں کیا کہتے ہو۔ کیا (یہ عمل) اس کے میل میں سے کوئی بھی چیز باقی رہنے دے گا۔ لوگوں نے عرض کی: اس کے میل میں سے کوئی بھی چیز باقی نہیں رہے گی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ پانچ نمازوں کی مثال ہے جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ گناہوں کو مٹا دے گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1726
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، قتيبة: هو ابن سعيد، وابن الهاد: هو يزيد بن عبد الله بن أسامة بن الهاد، ومحمد بن إبراهيم: هو التيمي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1723»