کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کی شرائط کا بیان - اس لفظ کا ذکر جو علم کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتا ہے کہ بغیر نیت کے نماز جائز ہے
حدیث نمبر: 1718
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَبَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِي عِمْرَانَ الْجَوْنِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، قَالَ : أَوْصَانِي خَلِيلِي بِثَلاثٍ : " اسْمَعْ وَأَطِعْ وَلَوْ لِعَبْدٍ مُجَدَّعِ الأَطْرَافِ ، وَإِذَا صَنَعْتَ مَرَقَةً فَأَكْثِرْ مَاءَهَا ، ثُمَّ انْظُرْ إِلَى أَهْلِ بَيْتٍ مِنْ جِيرَانِكَ فَأَصِبْهُمْ مِنْهُ بِمَعْرُوفٍ ، وَصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِنْ وَجَدْتَ الإِمَامَ قَدْ صَلَّى فَقَدْ أَحْرَزْتَ صَلاتَكَ ، وَإِلا فَهِيَ نَافِلَةٌ " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میرے خلیل (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے تین چیزوں کی تلقین کی تھی تم (حاکم کی) اطاعت و فرمانبرداری کرنا، اگرچہ وہ کوئی ناک کان کٹا غلام ہو۔ جب تم شوربا بناؤ تو اس میں پانی زیادہ کر لینا۔ پھر اپنے پڑوسیوں میں سے کسی گھر کا جائزہ لینا اور اس (شوربہ) میں سے مناسب طور پر انہیں دے دینا۔ نماز کو اس کے وقت پر ادا کرنا جب تم امام کو ایسی حالت میں پاؤ کہ وہ نماز ادا کر چکا ہو، تو تم نے اپنی نماز کی حفاظت کر لی، ورنہ وہ (امام کے ہمراہ دوبارہ ادا کرنے کی صورت میں تمہاری دوسری نماز) نفل ہو جائے گی۔