کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کی شرائط کا بیان - اللہ جل وعلا کی طرف سے اس نماز کو ایمان کہنے کا ذکر جو اس مدت میں بیت المقدس کی طرف پڑھی گئی
حدیث نمبر: 1717
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِسْرَائِيلَ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " لَمْا وُجِّهَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْكَعْبَةِ ، قَالُوا : كَيْفَ بِمَنْ مَاتَ مِنْ إِخْوَانِنَا وَهُمْ يُصَلُّونَ نَحْوَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ؟ فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا : وَمَا كَانَ اللَّهُ لِيُضِيعَ إِيمَانَكُمْ سورة البقرة آية 143 " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا رخ خانہ کعبہ کی طرف کر دیا گیا، تو لوگوں نے عرض کی: ہمارے ان بھائیوں کا کیا ہو گا، جن کا انتقال ایسی حالت میں ہوا ہے، وہ بیت المقدس کی طرف رخ کر کے نماز ادا کرتے رہے، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”اللہ تعالیٰ کی یہ شان نہیں ہے، وہ تمہارے ایمان (یعنی اعمال) کو ضائع کر دے ۔“