کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کی شرائط کا بیان - اس خبر کا ذکر جو حدیث کی صنعت سے ناواقف شخص کو یہ وہم دلاتا ہے کہ اونٹوں کے اصطبل میں نماز سے منع کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ شیاطین سے پیدا کیے گئے ہیں
حدیث نمبر: 1702
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا فِي مَرَابِضِ الْغَنَمِ ، وَلا تُصَلُّوا فِي مَعَاطِنِ الإِبِلِ ، فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " فَإِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ " أَرَادَ بِهِ أَنَّ مَعَهَا الشَّيَاطِينَ وَهَكَذَا قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَلْيَدْرَأْهُ مَا اسْتَطَاعَ ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ " ، ثُمَّ قَالَ فِي خَبَرِ صَدَقَةَ بْنِ يَسَارٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ : فَلْيُقَاتِلْهُ ، فَإِنَّ مَعَهُ الْقَرِينَ .
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” بکریوں کے باڑے میں نماز ادا کر لو اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا نہ کرو، کیونکہ ان کی تخلیق شیاطین سے ہوئی ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” ان کی تخلیق شیاطین سے ہوئی ہے “ اس سے آپ کی مراد یہ ہے کہ ان کے ساتھ شیاطین ہوتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ (درج ذیل) فرمان بھی اس نوعیت کا ہے۔ ” وہ جہاں تک ہو سکے اسے پرے کرنے کی کوشش کرے اگر وہ (دوسرا شخص) نہیں مانتا تو وہ (نمازی) اس کے ساتھ جھگڑا کرے کیونکہ وہ (دوسرا شخص) شیطان ہو گا ۔“ صدقہ بن یسار نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں۔ ” پس وہ (نمازی) اس کے ساتھ جھگڑا کرے کیونکہ اس (آگے سے گزرنے والے) کے ساتھ قرین (یعنی شیطان) ہو گا ۔“