کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذان کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ عبد الرحمن بن جبیر نے عبد اللہ بن عمرو سے یہ حدیث نہیں سنی
حدیث نمبر: 1692
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، حَدَّثَنَا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، أَخْبَرَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفِيرٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ، وَصَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّهَا مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، لا تَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ إِلا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ ، حَلَّتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب تم مؤذن کو سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو وہ کہتا ہے، اور مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجا ہےاللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمت نازل کرتا ہے، پھر تم میرے لئے وسیلے کی دعا مانگو، کیونکہ یہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے کسی ایک بندے کو ملے گا، اور مجھے یہ امید ہے، وہ ایک بندہ ” میں “ ہوں گا، جو شخصاللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلے کا سوال کرے گا۔ اس شخص کے لئے میری شفاعت لازم ہو جائے گی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1692
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1690»