کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذان کا بیان - اس بات کا بیان کہ عربی زبان میں "عليه" کا لفظ "له" کے معنی میں اور "له" کا لفظ "عليه" کے معنی میں استعمال ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1691
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُقْرِئُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ ، وَصَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ يُصَلِّي عَلَيَّ صَلاةً ، إِلا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، وَسَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّ الْوَسِيلَةَ مَنْزِلَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، وَلا تَنْبَغِي أَنْ تَكُونَ إِلا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، وَمَنْ سَأَلَهَا لِي ، حَلَّتْ لَهُ شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب تم مؤذن کو سنو تو تم اس کی مانند کلمات کہو جو وہ کہتا ہے، اور پھر تم مجھ پر درود بھیجو جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہے۔اللہ تعالیٰ اس پر دس مرتبہ رحمتیں نازل کرتا ہے، اور تم میرے لئے وسیلے کی دعا مانگو، کیونکہ وسیلہ جنت میں ایک مقام ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف کسی ایک بندے کو ملے گا، اور مجھے یہ امید ہے، وہ ایک بندہ ” میں “ ہوں گا، جو شخص میرے لئے وہ مانگے گا، تو اس کے لئے قیامت کے دن میری شفاعت لازم ہو جائے گی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1691
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، المقرئ: هو عبد الله بن يزيد المكي أبو عبد الرحمن.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1689»