کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذان کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جو شخص اذان سن کر اللہ جل وعلا سے اپنے نبی مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جنت میں وسيلة مانگے، اس کے لیے قیامت کے دن شفاعت واجب ہے
حدیث نمبر: 1690
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي كَعْبُ بْنُ عَلْقَمَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ جُبَيْرِ بْنِ نُفِيرٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا مِثْلَ مَا يَقُولُ ، ثُمَّ صَلُّوا عَلَيَّ ، فَإِنَّهُ مَنْ صَلَّى عَلَيَّ صَلاةً صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ عَشْرًا ، ثُمَّ سَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ ، فَإِنَّهَا مَرْتَبَةٌ فِي الْجَنَّةِ ، لا تَنْبَغِي إِلا لِعَبْدٍ مِنْ عِبَادِ اللَّهِ ، وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ ، فَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ حَلَّتْ عَلَيْهِ الشَّفَاعَةُ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” جب تم مؤذن کو سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو وہ کہتا ہے: پھر تم مجھ پر درود بھیجو، کیونکہ جو شخص مجھ پر ایک مرتبہ درود بھیجتا ہےاللہ تعالیٰ اس پر دس رحمتیں نازل کرتا ہے، پھر تم میرے لئے وسیلے کی دعا مانگو یہ جنت میں ایک مرتبہ ہے، جو اللہ کے بندوں میں سے صرف کسی ایک بندے کو ملے گا، اور مجھے یہ امید ہے، وہ ایک بندہ ” میں “ ہوں گا، جو شخصاللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کی دعا کرے گا، اس کے لئے میری شفاعت لازم ہو جائے گی ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1690
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (536)، «الإرواء» (1/ 259). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1688»