کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذان کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی دلیل ہے کہ مؤذن کو اس کی اذان کی وجہ سے اس شخص کے برابر اجر ملتا ہے جو اس کے ساتھ نماز پڑھتا ہے
حدیث نمبر: 1668
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي أُبْدِعَ بِي ، فَاحْمِلْنِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عِنْدِي " ، فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا أَدُلُّهُ عَلَى مَنْ يَحْمِلُهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ ، فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ أُبْدِعَ بِي : يُرِيدُ قُطِعَ بِي عَنِ الرُّكُوبِ ، لأَنَّ رَوَاحِلِي كَلَّتْ وَعَرَجَتْ .
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے پاس سواری کا انتظام نہیں ہے۔ آپ مجھے سواری کے لئے کچھ دیجئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وہ میرے پاس نہیں ہے۔ ایک صاحب نے عرض کی: میں اس کی رہنمائی اس شخص کی طرف کر سکتا ہوں جو اس کو سواری کے لئے جانور دیدے گا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جو شخص بھلائی کی طرف رہنمائی کرے اسے اس بھلائی پر عمل کرنے والے کے اجر کی مانند اجر ملتا ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت کے الفاظ ابدع بی سے مراد یہ ہے کہ میرے لیے سفر کرنا ممکن نہیں رہا کیونکہ میرے جانور کمزور اور بیمار ہو گئے ہیں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1668
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (1660). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، أبو عمرو الشيباني: هو سعد بن إياس.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1666»