کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذان کا بیان - اس بات کا بیان کہ اللہ جل وعلا مؤذن کو اس کی اذان کی وجہ سے مغفرت عطا کرتا ہے اور اسے جنت میں داخل کرتا ہے اگر اسے یقین ہو
حدیث نمبر: 1667
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الأَشَجِّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ خَالِدٍ الدُّؤَلِيِّ ، أَنَّ النَّضْرَ بْنَ سُفِيانَ الدُّؤَلِيَّ ، حَدَّثَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَلَعَاتِ النَّخْلِ ، فَقَامَ بِلالٌ يُنَادِي ، فَلَمْا سَكَتَ ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ قَالَ مِثْلَ مَا قَالَ هَذَا يَقِينًا دَخَلَ الْجَنَّةَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ کھجوروں کے جھنڈ کے پاس تھے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہو کر اذان دینے لگے جب وہ خاموش ہوئے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ” جو شخص یقین کے ساتھ وہی کلمات کہے، جو اس نے کہے ہیں، تو وہ شخص جنت میں داخل ہو گا ۔“