کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذان کا بیان - اللہ جل وعلا کی مغفرت کا ذکر جو مؤذن کو اس کی اذان کی آواز کی حد تک ملتی ہے
حدیث نمبر: 1666
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ ، سَمِعْتُ أَبَا يَحْيَى ، يَقُولُ : سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الْمُؤَذِّنُ يُغْفَرُ لَهُ مَدَى صَوْتِهِ ، وَيَشْهَدُ لَهُ كُلُّ رَطْبٍ وَيَابِسٍ ، وَشَاهِدُ الصَّلاةِ يُكْتَبُ لَهُ خَمْسٌ وَعِشْرِونَ حَسَنَةً ، وَيُكَفَّرُ عَنْهُ مَا بَيْنَهُمَا " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَبُو يَحْيَى هَذَا اسْمُهُ سَمْعَانُ مَوْلَى أَسْلَمْ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ وَالِدِ أُنَيْسٍ ، وَمُحَمَّدٍ ابْنِي أَبِي يَحْيَى الأَسْلَمْيِّ مِنْ جِلَّةِ التَّابِعِينَ ، وَابْنُ ابْنِهِ إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي يَحْيَى تَالِفٌ فِي الرِّوَايَاتِ ، وَمُوسَى بْنُ أَبِي عُثْمَانَ : مِنْ سَادَاتِ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَعُبَّادِهِمْ ، وَاسْمُ أَبِيهِ عِمْرَانُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے۔ اس کی اتنی مغفرت ہو جاتی ہے، اور ہر خشک و تر چیز اس کے حق میں گواہی دے گی اور نماز میں شریک ہونے والے کے لئے پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں اور دو نمازوں کے درمیان کے اس کے گناہ معاف کر دیئے جاتے ہیں ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) ابویحییٰ نامی راوی کا نام سمعان ہے یہ اسلم نامی صاحب کے آزاد کردہ غلام ہیں۔ ان کا تعلق اہل مدینہ سے ہے۔ یہ انیس اور محمد بن ابویحیی اسلمی نامی راوی کے والد ہیں جو جلیل القدر تابعین میں سے ایک ہیں۔ ان کے پوتے ابراہیم بن محمد بن ابویحیی ہیں جو روایات میں ہلاکت کا شکار ہونے والا تھا۔ موسی بن ابوعثمان نامی راوی اہل کوفہ کے اکابرین اور عبادت گزاروں میں سے ایک ہیں ان کے والد کا نام عمران تھا۔