کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اذان کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مؤذن کو اس کی تکبیر سے فطرت اور اللہ کی وحدانیت کی گواہی سے نجات نصیب ہوتی ہے
حدیث نمبر: 1665
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُعَاذِ بْنِ خُلَيْفٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَى بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلا وَهُوَ فِي مَسِيرٍ لَهُ ، يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ ، اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " عَلَى الْفِطْرَةِ " ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " حُرِّمَ عَلَى النَّارِ " ، فَابْتَدَرْنَاهُ فَإِذَا هُوَ صَاحِبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلاةُ فَنَادَى بِهَا " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کے دوران ایک شخص کو سنا جو «الله اکبر» «اللہ اکبر» کہہ رہا تھا (یعنی وہ اذان دے رہا تھا) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ فطرت پر ہے، پھر اس نے کہا: «الشهد ان لا اله الا اللہ» تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ جہنم پر حرام ہو گیا ہم لپک کر اس شخص کے پاس گئے تو وہ جانوروں کا چرواہا تھا جسے نماز کا وقت ہو گیا تھا، تو وہ اس کے لئے اذان دے رہا تھا۔