کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذان کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اقامت کے وقت شیطان کتنا دور بھاگتا ہے
حدیث نمبر: 1664
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، بِالْمَوْصِلِ ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفِيانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ الشَّيْطَانَ إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ بِالصَّلاةِ ، ذَهَبَ حَتَّى يَكُونَ مَكَانُ الرَّوْحَاءِ " ، قَالَ سُلَيْمَانُ : فَسَأَلْتُهُ عَنِ الرَّوْحَاءِ ، فَقَالَ : " هِيَ مِنَ الْمَدِينَةِ عَلَى سَبْعَةٍ وَثَلاثِينَ مِيلا " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: شیطان جب اذان سنتا ہے، تو وہ چلا جاتا ہے یہاں تک کہ ” روحاء “ پہنچ جاتا ہے ۔“ سلیمان نامی راوی کہتے ہیں میں نے اپنے استاد سے ” روحاء “ کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: یہ مدینہ منورہ سے 37 میل کے فاصلے پر ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1664
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو سفيان: هو طلحة بن نافع القرشي مولاهم الواسطي من رجال مسلم، وباقي السند على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1662»