کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذان کا بیان - اس بات کا ذکر کہ شیطان اذان اور اقامت سن کر دور بھاگتا ہے
حدیث نمبر: 1662
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ أَدْبَرَ الشَّيْطَانُ وَلَهُ ضُرَاطٌ ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ ، فَإِذَا ثُوِّبَ أَدْبَرَ وَلَهُ ضُرَاطٌ ، فَإِذَا سَكَتَ أَقْبَلَ يَخْطِرُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَنَفْسِهِ حَتَّى يَظَلَّ الرَّجُلُ لا يَدْرِي كَمْ صَلَّى ، فَإِذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ فَوَجَدَ ذَلِكَ ، فَلْيَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب مؤذن اذان دیتا ہے، تو شیطان پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے، جب موذن خاموش ہو جاتا ہے، تو وہ پھر آ جاتا ہے، پھر جب مؤذن اقامت کہتا ہے، تو وہ پھر پیٹھ پھیر کر چلا جاتا ہے، اور اس کی ہوا خارج ہو رہی ہوتی ہے۔ جب مؤذن خاموش ہوتا ہے، تو شیطان آ جاتا ہے، اور آدمی کے دل میں مختلف طرح کے خیالات پیدا کرنا شروع کر دیتا ہے، یہاں تک کہ آدمی کو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے، جب کسی شخص کو نماز ادا کرتے ہوئے اس طرح کی صورت حال کا سامنا کرنا پڑے تو اسے قعدہ کے دوران دو مرتبہ سجدہ سہو کر لینا چاہئے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1662
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر (16). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1660»