کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذان کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ جن، انسان اور چیزیں قیامت کے دن مؤذن کے لیے اس کی دنیا میں اذان دینے کی گواہی دیں گی
حدیث نمبر: 1661
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي صَعْصَعَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، قَالَ : " إِنِّي أَرَاكَ تُحِبُّ الْغَنَمَ وَالْبَادِيَةَ ، فَإِذَا كُنْتَ فِي غَنَمِكَ وَبَادِيَتِكَ ، وَأَذَّنْتَ فِي الصَّلاةِ فَارْفَعْ صَوْتَكَ بِالنِّدَاءِ ، فَإِنَّهُ لا يَسْمَعُ مَدَى صَوْتِ الْمُؤَذِّنِ جِنٌّ وَلا إِنْسٌ وَلا شَيْءٌ ، إِلا شَهِدَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، قَالَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ : سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
سیدنا عبدالرحمن بن عبداللہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا میں نے دیکھا ہے، تم بھیڑ بکریوں میں رہنے اور دیہاتی زندگی کو پسند کرتے ہو (راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) یا تم بھیڑ بکریوں میں اور ویرانے میں رہتے ہو، تو نماز کی اذان دو اور اپنی آواز کو اذان دیتے ہوئے بلند رکھو، کیونکہ مؤذن کی آواز جہاں تک جاتی ہے وہاں اسے جو بھی جن، انسان اور جو بھی چیز سنتی ہے، تو وہ قیامت کے دن اس مؤذن کے حق میں گواہی دے گی ۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1661
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، القعنبي: هو عبد الله بن مسلمة بن قعنب القعنبي الحارثي، ثقة فاضل، وهو أحد رواة «الموطأ» عن مالك، وقد انفردت نسخته بحديث «لا تطروني كما أطرت النصارى عيسى بن مريم، إنما أنا عبد، فقولوا: عبده ورسول» وكان ابن معين وابن المدين لا يقدمان عليه أحداً في «الموطأ»، وهو فيه بروايته ص87 [نشر دار الشروق] و1/ 69 برواية يحيى، باب جامع النداء.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1659»