کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذان کا بیان - اس خبر کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ اذان دینے کی پابندی کرے، خصوصاً جب وہ اکیلا پہاڑوں کی چوٹیوں یا وادیوں کے دامن میں ہو
حدیث نمبر: 1660
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرِو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي عُشَّانَةَ ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " يَعْجَبُ رَبُّكَ مِنْ رَاعِي غَنْمٍ فِي رَأْسِ الشَّظِيَّةِ لِلْجَبَلِ ، يُؤَذِّنُ لِلصَّلاةِ ، وَيُصَلِّي ، فِيقُولُ اللَّهُ : انْظُرُوا إِلَى عَبْدِي هَذَا يُؤَذِّنُ ، وَيُقِيمُ لِلصَّلاةِ ، يَخَافُ مِنِّي ، قَدْ غَفَرْتُ لِعَبْدِي ، وَأَدْخَلْتُهُ الْجَنَّةَ " .
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ” تمہارا پروردگار بکریوں کے اس چرواہے پر بہت خوش ہوتا ہے، جو پہاڑ کی چوٹی پر موجود ہوتا ہے وہ نماز کے لئے اذان دیتا ہے، اور نماز پڑھتا ہے،اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: میرے اس بندے کی طرف دیکھو اس نے اذان بھی دی ہے، اور نماز بھی ادا کی ہے یہ مجھ سے ڈرتا ہے میں نے اپنے بندے کی مغفرت کر دی ہے، اور میں اسے جنت میں داخل کروں گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1660
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الصحيحة» (41)، «صحيح أبي داود» (1086). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، أبو عُشَّانة: هو حي بن يُومِن المصري وهو ثقة، وباقي رجال السند على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1658»