کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: اذان کا بیان - اس ترغیب کا ذکر کہ اذان دینے پر قرعہ اندازی کی جائے
حدیث نمبر: 1659
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ بِمَنْبِجَ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ سُمَيٍّ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَوْ يَعْلَمْ النَّاسُ مَا فِي النِّدَاءِ وَالصَّفِّ الأَوَّلِ ، ثُمَّ لَمْ يَجِدُوا إِلا أَنْ يَسْتَهِمُوا عَلَيْهِ لاسْتَهَمُوا عَلَيْهِ ، وَلَوْ يَعْلَمْونَ مَا فِي الْعَتَمَةِ وَالصُّبْحِ لأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” اگر لوگوں کو یہ پتہ چل جائے کہ اذان اور پہلی صف میں (کیا اجر و ثواب) ہے، اور پھر انہیں قرعہ اندازی کے ذریعے اس کا موقع ملے، تو وہ اس کے لئے قرعہ اندازی بھی کر لیں اور اگر انہیں یہ پتہ چل جائے کہ عشاء اور فجر (کی نماز باجماعت) میں کیا اجر و ثواب ہے، تو وہ ان دونوں میں ضرور شریک ہوں۔ اگرچہ وہ گھسٹ کر چل کر آئیں ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1659
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «مختصر مسلم» (268). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، سُمي: هو مولى أبي بكر بن عبد الرحمن بن الحارث بن هشام، وأبو صالح: هو ذكوان السمان الزيات المدني
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1657»