حدیث نمبر: 1658
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ مَالِكِ بْنِ الْحُوَيْرِثِ ، قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ شَبَبَةٌ مُتَقَارِبُونَ ، فَأَقَمْنَا عِنْدَهُ عِشْرِينَ لَيْلَةً ، فَظَنَّ أَنَّا قَدِ اشْتَقْنَا إِلَى أَهْلِينَا ، سَأَلَنَا عَمَّنْ تَرَكْنَا فِي أَهْلِنَا ، فَأَخْبَرْنَاهُ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحِيمًا رَفِيقًا ، فَقَالَ : " ارْجِعُوا إِلَى أَهْلِيكُمْ فَعَلَمْوهُمْ ، وَمُرُوهُمْ ، وَصَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلاةُ فَلْيُؤَذِّنْ أَحَدُكُمْ ، وَلْيَؤُمَّكُمْ أَكْبَرُكُمْ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلُّوا كَمَا رَأَيْتُمُونِي أُصَلِّي " لَفْظَةُ أَمْرٍ تَشْتَمِلُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ كَانَ يَسْتَعْمِلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلاتِهِ ، فَمَا كَانَ مِنْ تِلْكَ الأَشْيَاءِ خَصَّهُ الإِجْمَاعُ أَوِ الْخَبَرُ بِالنَّفْلِ ، فَهُوَ لا حَرَجَ عَلَى تَارِكِهِ فِي صَلاتِهِ ، وَمَا لَمْ يَخُصَّهُ الإِجْمَاعُ أَوِ الْخَبَرُ بِالنَّفْلِ فَهُوَ أَمْرٌ حَتْمٌ عَلَى الْمُخَاطَبِينَ كَافَّةً ، لا يَجُوزُ تَرْكُهُ بِحَالٍ .
سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ہم نوجوان ہم عمر لوگ تھے ہم نے آپ کے پاس 20 دن قیام کیا جب آپ کو یہ اندازہ ہوا کہ ہمیں اپنے گھر والوں کی یاد ستا رہی ہے، تو آپ نے ہم سے دریافت کیا کہ ہم اپنے گھر والوں کے لئے کیا چھوڑ کر آئے ہیں ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بڑے مہربان اور نرم دل تھے۔ آپ نے فرمایا: تم اپنے گھر والوں کے پاس واپس چلے جاؤ انہیں عظیم دو انہیں حکم دو اور تم لوگ اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم نے مجھے نماز ادا کرتے ہوئے دیکھا ہے، جب نماز کا وقت آ جائے، تو تم میں سے کوئی ایک شخص اذان دے اور تم میں سے جو شخص عمر میں بڑا ہو وہ تمہاری امامت کرے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم اس طرح نماز ادا کرو جس طرح تم مجھے ادا کرتے دیکھتے ہو “ یہ ایسے حکم کے الفاظ ہیں جو ہر اس چیز پر مشتمل ہیں جن پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے دوران عمل کیا کرتے تھے۔ البتہ ان میں سے جن چیزوں کو اجماع یا کسی دوسری حدیث کے ذریعے نفل قرار دیا گیا ہو تو نماز کے دوران انہیں ترک کرنے والے شخص پر کوئی حرج نہیں ہو گا لیکن جس چیز کو اجماع یا حدیث نے نفل ہونے کے طور پر مخصوص نہ کیا ہو وہ تمام مخاطب افراد کو لازمی حکم ہو گا جس کو ترک کرنا کسی بھی حال میں جائز نہ ہو گا۔