کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مساجد کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ لوگوں کو ایک مجلس میں مسجد میں جمع ہونے سے نہ روکا جائے اگر وہ علم سیکھنے یا اس کی تدریس کا ارادہ رکھتے ہوں
حدیث نمبر: 1654
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْمُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ وَهُمْ فِي الْمَسْجِدِ جُلُوسٌ حِلَقًا ، فَقَالَ : " مَا لِي أَرَاكُمْ عِزِينَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ اس وقت مسجد میں حلقے بنا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” کیا وجہ ہے، میں تمہیں مختلف ٹولیوں میں دیکھ رہا ہوں ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1654
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «المشكاة» (4724)، «صحيح أبي داود» (918): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط مؤمل بن إسماعيل سيئ الحفظ كما تقدم، فلا يقنع بحديثه إذا انفرد به، وباقي رجاله ثقات
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1652»