کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مساجد کا بیان - اس امید کا ذکر کہ مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے والا اپنے گناہوں سے اس طرح نکلتا ہے جیسے اس دن جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا
حدیث نمبر: 1633
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلَمْ ، حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي رَبِيعَةُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الدَّيْلَمْيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ دَاوُدَ سَأَلَ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ثَلاثًا فَأَعْطَاهُ اثْنَتَيْنِ ، وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَعْطَاهُ الثَّالِثَةَ ، سَأَلَهُ مُلْكًا لا يَنْبَغِي لأَحَدٍ مِنْ بَعْدِهِ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَسَأَلَهُ حُكْمًا يُوَاطِئُ حُكْمَهُ فَأَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَسَأَلَهُ مَنْ أَتَى هَذَا الْبَيْتَ يُرِيدُ بَيْتَ الْمَقْدِسِ لا يُرِيدُ إِلا الصَّلاةَ فِيهِ ، أَنْ يَخْرُجَ مِنْهُ كَيَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَأَرْجُو أَنْ يَكُونَ قَدْ أَعْطَاهُ الثَّالِثَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” سیدنا سلیمان علیہ السلام نےاللہ تعالیٰ سے تین چیزیں مانگی تھیںاللہ تعالیٰ نے دو چیزیں انہیں عطا کر دیں اور مجھے یہ امید ہے،اللہ تعالیٰ نے انہیں تیسری چیز بھی عطا کر دی ہو گی۔ انہوں نےاللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ ان کو ایسی بادشاہی ملے جو ان کے بعد کسی اور کو نہ ملے، تواللہ تعالیٰ نے یہ چیز انہیں عطا کر دی۔ انہوں نےاللہ تعالیٰ سے سوال کیا کہ انہیں ایسا فیصلہ کرنے کی ایسی صلاحیت ملے جواللہ تعالیٰ کے فیصلے کے مطابق ہو، تواللہ تعالیٰ نے انہیں یہ چیز بھی عطا کر دی۔ انہوں نےاللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگی کہ جو شخص اس گھر (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد بیت المقدس تھی) کی زیارت کے لئے آئے اور اس کا مقصد صرف وہاں نماز ادا کرنا ہو، تو وہ اپنے گناہوں سے یوں باہر آ جائے جس طرح اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ ارشاد فرماتے ہیں: مجھے اُمید ہے،اللہ تعالیٰ نے انہیں یہ تیسری چیز بھی عطا کر دی ہو گی۔