کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: مساجد کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا رحمت اور شفقت سے اس مقام کی طرف دیکھتا ہے جو مسجد میں خیر اور نماز کے لیے مختص ہے
حدیث نمبر: 1607
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يُوَطِّنُ الرَّجُلُ الْمَسْجِدَ لِلصَّلاةِ ، أَوْ لِذِكْرِ اللَّهِ ، إِلا تَبَشْبَشَ اللَّهُ بِهِ ، كَمَا يَتَبَشْبَشُ أَهْلُ الْغَائِبِ ، إِذَا قَدِمَ عَلَيْهِمْ غَائِبُهُمْ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : الْعَرَبُ إِذَا أَرَادَتْ وَصْفَ شَيْئَيْنِ مُتَبَايِنَيْنِ عَلَى سَبِيلِ التَّشْبِيهِ أَطَلَقَتْهُمَا مَعًا بِلَفْظِ أَحَدِهِمَا ، وَإِنْ كَانَ مَعْنَاهُمَا فِي الْحَقِيقَةِ غَيْرَ سِيَّيْنِ كَمَا قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ " كَانَ طَعَامُنَا عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الأَسْوَدَانِ : التَّمْرُ وَالَمْاءُ " . فَأَطْلَقَهُمَا جَمِيعًا بِلَفْظِ أَحَدِهِمَا عِنْدَ التَّثْنِيَةِ ، وَهَذَا كَمَا قِيلَ : عَدْلُ الْعُمَرَيْنِ ، فَأُطْلِقَا مَعًا بِلَفْظِ أَحَدِهِمَا ، فَتَبَشْبَشَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا لِعَبْدِهِ الْمَوْطِنَ الْمَكَانَ فِي الْمَسْجِدِ لِلصَّلاةِ وَالْخَيْرِ ، إِنَّمَا هُوَ نَظَرَهُ إِلَيْهِ بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ وَالْمَحَبَّةِ لِذَلِكَ الْفِعْلِ مِنْهُ وَهَذَا كَقَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَحْكِي عَنِ اللَّهِ تَعَالَى : " مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا " ، يُرِيدُ بِهِ : مَنْ تَقَرَّبَ مِنِّي شِبْرًا بِالطَّاعَةِ وَوَسَائِلِ الْخَيْرِ ، تَقَرَّبْتُ مِنْهُ ذِرَاعًا بِالرَّأْفَةِ وَالرَّحْمَةِ ، وَلِهَذَا نَظَائِرُ كَثِيرَةٌ سَنَذْكُرُهَا فِي مَوْضِعَهَا مِنْ هَذَا الْكِتَابِ إِنْ يَسَّرَ اللَّهُ ذَلِكَ وَسَهَّلَهُ .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص نماز ادا کرنے کے لئے یااللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے کے لئے مسجد کو وطن بنا لیتا ہے (یعنی وہاں ٹھہرا رہتا ہے) تواللہ تعالیٰ اس شخص پر اتنا خوش ہوتا ہے جتنا خوش کسی غائب شخص کے واپس آنے پر اس کے اہل خانہ ہوتے ہیں۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) عرب جب ایک دوسرے سے مختلف چیزوں کی تشبیہہ کے طور پر صفت بیان کرنے کا ارادہ کرتے ہیں، تو ان دونوں میں سے کسی ایک کے لفظ کے ہمراہ ان دونوں کو استعمال کر لیتے ہیں اگرچہ حقیقت کے اعتبار سے ان دونوں کا معنی ایک دوسرے سے مختلف ہو جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے یہ کہا: ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں ہماری خوراک دو سیاہ چیزیں ہوتی تھیں۔ کھجور اور پانی، تو یہاں انہوں نے ان دونوں کیلئے ان دونوں میں سے ایک لفظ استعمال کیا ہے، جبکہ وہ دو چیزیں ہیں اور یہ اسی طرح ہو گا، جس طرح یہ دو عمروں کے برابر ہے، تو یہاں ان دونوں میں سے ایک کے لفظ کے ذریعے ان دونوں کو استعمال کیا گیا ہے، تو آدمی کا نماز اور بھلائی کیلئے مسجد میں اپنی جگہ کو مقرر کر لینے کی وجہ سےاللہ تعالیٰ کا بندے سے خوش ہونا، اس سے مراد یہ ہے کہاللہ تعالیٰ اپنی مہربانی، رحمت اور محبت کے ذریعے اس کی طرف نظر کرتا ہے، جو اس کے اس کے فعل کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کے مانند ہے، جو آپ نےاللہ تعالیٰ کے فرمان کے طور پر نقل کیے ہیں۔ ” جو شخص ایک بالشت میرے قریب ہوتا ہے میں ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں ۔“ اس سے مراد یہ ہے کہ جو شخص ایک بالش اطاعت اور بھلائی کے ذریعے میرا قرب حاصل کرتا ہے، تو مہربانی اور رحمت کے ہمراہ ایک ذراع اس کے قریب ہوتا ہوں اس کی مثالیں بہت زیادہ ہیں جنہیں ہم عنقریب اس کے مخصوص مقام سے متعلق باب میں نقل کریں گے۔ اگراللہ تعالیٰ نے اس کو آسان کیا اور اسے سہل کیا۔