کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: مساجد کا بیان - اس حالت کا ذکر کہ مدینہ کے مسجد کی تعمیر جو مسلمانوں نے وہاں پہنچنے پر کی
حدیث نمبر: 1601
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، حَدَّثَنِي عَمِّي ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَخْبَرَ أَنَّ " الْمَسْجِدَ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَبْنِيًّا مِنْ لَبِنٍ ، وَسَقْفُهُ الْجَرِيدُ ، وَعُمُدُهُ خَشَبُ النَّخْلِ ، فَلَمْ يَزِدْ فِيهِ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَزَادَ فِيهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، وَبَنَاهُ عَلَى بُنْيَانِهِ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِاللَّبِنِ ، وَالْجَرِيدِ ، وَأَعَادَ عُمُدَهُ خَشَبًا ، ثُمَّ غَيَّرَهُ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَزَادَ فِيهِ زِيَادَةً كَبِيرَةً ، وَبَنَى جِدَارَهُ بِالْحِجَارَةِ الِمَنْقُوشَةِ ، وَجَعَلَ عُمُدَهُ مِنْ حِجَارَةٍ مَنْقُوشَةٍ ، وَسَقَّفَهُ بِالسَّاجِ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مسجد کچی اینٹوں سے بنائی گئی تھی، اور اس کی چھت پر کھجور کی شاخیں رکھی گئی تھیں۔ اس کے ستون کھجور کے درخت کے تھے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس میں کوئی اضافہ نہیں کیا۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس میں توسیع کی انہوں نے اسے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کی بنیادوں کے مطابق دوبارہ کچی اینٹوں اور شاخوں کے ذریعے تعمیر کیا۔ انہوں نے دوبارہ اس کے ستون لکڑی کے بنائے پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اس میں تبدیلی کی اور اس میں انہوں نے بہت زیادہ توسیع کی۔ انہوں نے اس کی دیواریں منقش پتھروں سے بنوائیں اور اس کے ستون منقش پتھروں سے بنوائے اور اس کی چھت ساجھ کی لکڑی سے بنوائی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1601
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (477): خ. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، رجاله رجال الشيخين سوى عبد الله بن سعد، فإنه من رجال البخاري، عم عبد الله: هو يعقوب بن إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف الزهري، ورواية صالح بن كيسان، عن نافع من رواية الأقران، لأنهما مدنيان، ثقتان، تابعيان من طبقة واحدة.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1599»