کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ بغیر عذر کے حضر میں دو نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے
حدیث نمبر: 1596
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَالْعَصْرَ جَمِيعًا ، وَالْمَغْرِبَ وَالْعِشَاءَ جَمِيعًا ، فِي غَيْرِ خَوْفٍ وَلا سَفَرٍ " . قَالَ مَالِكٌ : أَرَى ذَلِكَ فِي مَطَرٍ .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر اور عصر کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔ آپ نے مغرب اور عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں اور یہ کسی خوف کے بغیر اور سفر کے علاوہ تھا۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میرا یہ خیال ہے، یہ بارش کے موسم میں ہوا ہو گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1596
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1093): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير أبي الزبير، فمن رجال مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1594»