کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے جائز ہے کہ وہ دو نمازوں کے درمیان ہلکا کام کرے اگر وہ انہیں جمع کرنا چاہے
حدیث نمبر: 1594
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ سَمِعَهُ يَقُولُ : " خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ عَرَفَةَ ، حَتَّى إِذَا كَانَ بِالشِّعْبِ نَزَلَ فَبَالَ ، ثُمَّ تَوَضَّأَ وَلَمْ يُسْبِغِ الْوُضُوءَ ، فَقُلْتُ لَهُ : الصَّلاةَ ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الصَّلاةُ أَمَامَكَ " ، فَرَكِبَ ، فَلَمْا جَاءَ الْمُزْدَلِفَةَ ، نَزَلَ فَتَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوءَ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الصَّلاةُ ، فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ، ثُمَّ أَنَاخَ كُلُّ إِنْسَانٍ بَعِيرَهُ فِي مَنْزِلِهِ ، ثُمَّ أُقِيمَتِ الْعِشَاءُ ، فَصَلاهَا وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَهُمَا " .
سیدنا اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، عرفہ کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے یہاں تک کہ جب آپ گھاٹی میں پہنچے تو آپ سواری سے نیچے اترے آپ نے پیشاب کیا پھر آپ نے وضو کیا اور وضو میں اسباغ نہیں کیا۔ میں نے آپ کی خدمت میں گزارش کی نماز آپ نے فرمایا: نماز آگے جا کے ہو گی پھر آپ سوار ہوئے، جب آپ مزدلفہ آئے، تو سواری سے نیچے اترے آپ نے وضو کرتے ہوئے اس میں اسباغ کیا پھر نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز ادا کی پھر یہ شخص نے اپنے رہائشی جگہ پر اونٹ کو باندھ دیا پھر عشاء کی نماز کے لئے اقامت کہی گئی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز ادا کی۔ آپ نے ان دونوں کے درمیان کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1594
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1681): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1592»