کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان - اس حالت کا ذکر کہ مسافر اگر چاہے تو ظہر اور عصر کی نمازوں کو جمع کرے
حدیث نمبر: 1592
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنْ عَقِيلٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " إِذَا ارْتَحَلَ قَبْلَ أَنْ تَزِيغَ الشَّمْسُ ، أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى وَقْتِ الْعَصْرِ ، ثُمَّ نَزَلَ فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا ، وَإِذَا زَاغَتْ قَبْلَ أَنْ يَرْتَحِلَ ، صَلَّى ثُمَّ رَحَلَ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب سورج ڈھلنے سے پہلے روانہ ہونا ہوتا، تو آپ ظہر کی نماز کو عصر کے وقت تک مؤخر کر دیتے تھے پھر آپ پڑاؤ کر کے دونوں نمازیں ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور جب آپ کے روانہ ہونے سے پہلے سورج ڈھل جاتا تو آپ نماز ادا کرنے کے بعد روانہ ہوتے تھے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1592
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1104): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، يزيد بن موهب: هو يزيد بن خالد بن يزيد بن عبد الله بن موهب، ثقة، وباقي رجال السند على شرطهما، عقيل: هو عقيل بن خالد بن عقيل الأيلي.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1590»