کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نمازوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا بیان - اس وجہ کے بعض حصے کا ذکر کہ جس کی بنا پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر میں دو نمازیں جمع کیں
حدیث نمبر: 1591
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ ، قَالا : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ السَّدُوسِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الطُّفِيلِ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " جَمَعَ فِي سَفْرَةٍ سَافَرَهَا ، وَذَلِكَ فِي غَزْوَةٍ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ وَالْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " ، فَقُلْتُ لَهُ : فَمَا حَمَلَهُ عَلَى ذَلِكَ ؟ قَالَ : أَرَادَ أَنْ لا يُحْرِجَ أُمَّتَهُ " .
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک سفر کے دوران نمازیں ایک ساتھ ادا کی ہیں یہ سفر آپ نے کیا تھا اور یہ ایک غزوے کی بات ہے آپ نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ ادا کی تھیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے دریافت کیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا تھا، تو سیدنا معاذ نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ چاہتے تھے کہ آپ اپنی امت کو حرج میں مبتلا نہ کریں۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1591
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (1089): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، وأبو الزبير قد صرح أبو الزبير بالتحديث، أبو عامر العقدي: هو عبد الملك بن عمرو القيسي، وأبو الطفيل: هو عامر بن واثلة بن عبد الله بن عمرو بن جحش الليثي، ولد عام أحد، ورأى النبي صلى الله عليه وسلم، وروى عن أبي بكر فمن بعده، وعمر إلى أن مات سنة عشر ومئة على الصحيح، وهو آخر من مات من الصحابة، قاله مسلم وغيره.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1589»