کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ فوت شدہ نماز سورج کے طلوع ہونے پر جب تک روشن نہ ہو، ادا نہیں کی جاتی
حدیث نمبر: 1579
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْجَوْهَرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ بَعْضُ الْقَوْمِ : لَوْ عَرَّسْتَ بِنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَخَافُ أَنْ تَنَامُوا عَنِ الصَّلاةِ " ، فَقَالَ بِلالٌ : أَنَا أُوقِظُكُمْ ، فَاسْتَنَدَ إِلَى رَاحِلَتِهِ ، وَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَقَالَ : " يَا بِلالُ ، أَيْنَ مَا قُلْتَ ؟ " ، قَالَ : أُلْقِيَتْ عَلَيَّ نَوْمَةٌ مَا نِمْتُ مِثْلَهَا قَطُّ ، قَالَ : " قُمْ فَأَذِّنِ النَّاسَ بِالصَّلاةِ " ، فَلَمْا طَلَعَتِ الشَّمْسُ وَابْيَضَّتْ ، قَامَ فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
عبداللہ بن ابوقتادہ اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے۔ لوگوں میں سے کسی نے کہا: یا رسول اللہ اگر آپ ہمیں پڑاؤ کی اجازت دیں (تو مہربانی ہو گی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مجھے یہ اندیشہ ہے، تم لوگ نماز کے وقت سوئے رہ جاؤ گے۔ سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے عرض کی میں آپ لوگوں کو بیدار کر دوں گا پھر وہ اپنی سواری کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت بیدار ہوئے جب سورج کا کنارہ نکل چکا تھا۔ آپ نے فرمایا: اے بلال! تم نے جو کہا: تھا وہ کہاں گیا؟ انہوں نے عرض کی: مجھ پر بھی نیند طاری ہو گئی تھی، اور یہ ایسی نیند تھی کہ اس طرح کی نیند مجھے کبھی نہیں آئی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم اٹھو اور لوگوں کے درمیان نماز کا اعلان کرو جب سورج نکل آیا، روشن ہو گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے اور آپ نے ان لوگوں کو نماز پڑھائی۔