کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے ذکر کردہ وجہ کی صحت کو واضح کرتی ہے
حدیث نمبر: 1578
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلَمْ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، قَالَ : حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو سَلَمْةَ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : حَدَّثَتْنِي عَائِشَةُ ، قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خُذُوا مِنَ الْعَمَلِ مَا تُطِيقُونَ ، فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " ، وَكَانَ أَحَبُّ الأَعْمَالِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْوَمَهَا ، وَإِنْ قَلَّ ، كَانَ إِذَا صَلَّى صَلاةً دَاوَمَ عَلَيْهَا ، يَقُولُ أَبُو سَلَمْةَ : " قَالَ اللَّهُ : الَّذِينَ هُمْ عَلَى صَلاتِهِمْ دَائِمُونَ سورة المعارج آية 23 " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " فَإِنَّ اللَّهَ لا يَمَلُّ حَتَّى تَمَلُّوا " مِنَ الأَلْفَاظِ الَّتِي لا يُحِيطُ عِلَمْ الْمُخَاطَبِ بِهَا فِي نَفْسِ الْقَصْدِ إِلا بِهِ .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: اتنا عمل اختیار کرو جتنی تم طاقت رکھتے ہو، کیونکہاللہ تعالیٰ کا فضل تم سے اس وقت تک منقطع نہیں ہوتا جب تک تم اکتاہٹ کا شکار نہیں ہو جاتے۔ (سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک پسندیدہ ترین عمل وہ تھا جو باقاعدگی سے کیا جائے اگرچہ وہ تھوڑا ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی نماز ادا کرتے تھے، تو آپ اسے باقاعدگی سے ادا کیا کرتے تھے۔ ابوسلمہ بیان کرتے ہیں:اللہ تعالیٰ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ” وہ لوگ جو اپنی نمازوں کے حوالے سے باقاعدگی رکھتے ہیں ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” بیشکاللہ تعالیٰ تھکتا نہیں۔ یہاں تک کہ تم تھک جاتے ہو “ یہ ان الفاظ میں سے ہے کہ مخاطب شخص کا علم وہاں تک رسائی حاصل نہیں کر سکتا جو ان الفاظ کے ذریعے مقصود ہے (یعنیاللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق اس کی صفت کیا ہے یہ آدمی نہیں جان سکتا)