کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس کام کی حالت کا ذکر جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کے بعد کی دو رکعتوں سے روکا حتیٰ کہ انہوں نے انہیں عصر کے بعد پڑھا
حدیث نمبر: 1575
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو الشَّعْثَاءِ عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِمَالٍ بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَقَسَمَهُ حَتَّى صَلَّى الْعَصْرَ ، ثُمَّ دَخَلَ مَنْزِلَ عَائِشَةَ ، فَصَلَّى الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ ، وَقَالَ : " شَغَلَنِي هَذَا الْمَالُ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّهْرِ ، فَلَمْ أُصَلِّهِمَا حَتَّى كَانَ الآنَ " .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ظہر کے بعد کچھ مال لایا گیا۔ آپ نے اسے تقسیم کرنا شروع کیا، یہاں تک کہ آپ نے عصر کی نماز ادا کر لی پھر آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور آپ نے عصر کے بعد دو رکعات ادا کی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: اس مال نے مجھے ظہر کے بعد کی دو رکعات ادا نہیں کرنے دیں۔ میں انہیں ادا نہیں کر پایا تھا، یہاں تک کہ یہ وقت ہو گیا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1575
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط رجاله ثقات إلا أن عطاء بن السائب قد اختلط والراوي عنه هنا وهو والد حميد بن عبد الرحمن ممن روى عنه بعد الاختلاط.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1573»