کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - دوسری خبر کا ذکر جو ہمارے پہلے ذکر کردہ مجمل اخبار کی تفسیر کرتی ہے
حدیث نمبر: 1567
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا بُنْدَارٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا بَرَزَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى يَسْتَوِيَ ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَأَمْسِكُوا عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَغِيبَ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” جب سورج کا کنارہ ظاہر ہو جائے، تو نماز سے رک جاؤ یہاں تک کہ وہ برابر ہو جائے (یعنی پورا باہر نکل آئے) اور جب سورج کا کنارہ غائب (ہونے کے قریب) ہو، تو نماز ادا کرنے سے رک جاؤ، یہاں تک کہ وہ (مکمل طور پر) غروب ہو جائے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1567
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح سنن النسائي» (556): خ، ومضى (1543). تنبيه!! رقم (1543) = (1545) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، بندار: لقب محمد بن بشار، ويحيى: هو ابن سعيد القطان.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1565»