کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ صلاة الصبح نہیں تھی
حدیث نمبر: 1565
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الدُّولابِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ الْعَامِرِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : شَهِدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّتَهُ ، فَصَلَّيْتُ مَعَهُ صَلاةَ الصُّبْحِ فِي مَسْجِدِ الْخَيْفِ مِنْ مِنًى ، فَلَمْا قَضَى صَلاتَهُ إِذَا رَجُلانِ فِي آخِرِ النَّاسِ لَمْ يُصَلِّيَا ، فَأُتِيَ بِهِمَا تَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُمَا ، فَقَالَ لَهُمَا : " مَا مَنَعَكُمَا أَنْ تُصَلِّيَا مَعَنْا ؟ " ، قَالا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، كُنَّا قَدْ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا ، قَالَ : " فَلا تَفْعَلا ، إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا ، ثُمَّ أَتَيْتُمَا مَسْجِدَ جَمَاعَةٍ ، فَصَلِّيَا مَعَهُمْ ، فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ " ، قَالَ الشَّيْخُ : قَوْلُهُ فَلا تَفْعَلا لَفْظَةُ زَجْرٍ مُرَادُهَا ابْتِدَاءُ أَمْرٍ مُسْتَأْنَفٍ .
جابر بن یزید عامری اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ آپ کے حج (یعنی حجتہ الوداع) میں شریک ہوا ہوں۔ میں نے آپ کی اقتداء میں صبح کی نماز منی میں موجود مسجد خیف میں ادا کی جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کر لی تو لوگوں کے پیچھے دو آدمی موجود تھے جنہوں نے (با جماعت) نماز ادا نہیں کی تھی۔ ان دونوں کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، تو وہ دونوں کانپ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا وجہ ہے، تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اپنے رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم ایسا نہ کرو، جب تم اپنے رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر تم جماعت کے ساتھ نماز والی مسجد میں آؤ تو ان لوگوں کے ساتھ بھی نماز ادا کر لو یہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔ شیخ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ” تم دونوں ایسا نہ کرو “ یہ لفظ ممانعت کے ہیں لیکن اس سے مراد ابتدائی طور پر کوئی حکم دینا ہے۔