کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس بیان کا ذکر کہ عصر کے بعد نماز سے ممانعت سے تمام تطوع مراد نہیں
حدیث نمبر: 1558
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ أُمَرَاءُ يُسِيئُونَ الصَّلاةَ يَخْنُقُونَهَا إِلَى شَرَقِ الْمَوْتَى ، فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْكُمْ ، فَلْيُصَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، وَلْيَجْعَلْ صَلاتَهُ مَعَهُمْ سُبْحَةً " .
سیدنا عبدالله، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” عنقریب ایسے حکمران آئیں گے جو نماز کو خراب کریں گے وہ اس کو اتنا تنگ کریں گے جتنی مردے کی چمک ہوتی ہے، تو تم میں سے جو شخص ان کو پائے وہ نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لے اور ان (حکمرانوں) کے ساتھ اپنی نماز کو نفل بنا لے ۔“