کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس خبر کا ذکر جو دلوں سے شک کو دور کرتی ہے کہ صبح اور عصر کے بعد نماز سے ممانعت سے فرائض اور فوت شدہ نمازیں مراد نہیں
حدیث نمبر: 1557
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمْ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، وَعَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَعَنِ الأَعْرَجِ ، يُحَدِّثُونَهُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الصُّبْحِ قَبْلَ طُلُوعِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاةَ ، وَمَنْ أَدْرَكَ رَكْعَةً مِنَ الْعَصْرِ قَبْلَ غُرُوبِ الشَّمْسِ فَقَدْ أَدْرَكَ الصَّلاةَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جو شخص سورج نکلنے سے پہلے صبح کی نماز کی ایک رکعت کو پا لے اس نے نماز کو پا لیا اور جو شخص سورج غروب ہونے سے پہلے عصر کی ایک رکعت کو پا لے اس نے نماز کو پا لیا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1557
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 273 / 253): ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما، الأعرج:: هو عبد الرحمن بن هرمز.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1555»