کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: اس علت (سبب) کا ذکر جس کی بنا پر ان دو اوقات میں نماز سے منع فرمایا گیا
حدیث نمبر: 1550
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى الْمِصْرِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْقُرَشِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ سَاعَاتِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ سَاعَةٌ تَأْمُرُنِي أَنْ لا أُصَلِّيَ فِيهَا ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، ثُمَّ الصَّلاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى يَنْتَصِفَ النَّهَارُ ، فَإِذَا انْتَصَفَ النَّهَارُ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَمِيلَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّ حِينَئِذٍ تُسَعَّرُ جَهَنَّمُ ، وَشِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ ، فَإِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ فَالصَّلاةُ مَحْضُورَةٌ مَشْهُودَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ، فَإِذَا صَلَّيْتَ الْعَصْرَ فَأَقْصِرْ عَنِ الصَّلاةِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ ، فَإِنَّهَا تَغِيبُ بَيْنَ قَرْنَيِ الشَّيْطَانِ ، ثُمَّ الصَّلاةُ مَشْهُودَةٌ مَحْضُورَةٌ مُتَقَبَّلَةٌ حَتَّى تُصَلِّيَ الصُّبْحَ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! رات اور دن کی گھڑیوں میں سے کون سی گھڑی ایسی ہے، جس کے بارے میں آپ مجھے یہ حکم دیتے ہیں، میں ان میں نماز ادا نہ کروں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم صبح کی نماز ادا کر لو تو نماز ادا کرنے سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے، کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے، پھر اس کے بعد نماز میں (فرشتوں کی) حاضری بھی ہوتی ہے، اور وہ قبول بھی ہوتی ہے، یہاں تک نصف النہار ہو جائے جب نصف النہار ہو جائے، تو نماز ادا کرنے سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے یہ وہ وقت ہے، جس میں جہنم کو بھڑکایا جاتا ہے، اور گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے۔ جب سورج ڈھل جائے، تم نماز میں (فرشتوں کی) حاضری بھی ہوتی ہے، اور وہ قبول بھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ تم عصر کی نماز ادا کر لو جب تم عصر کی نماز ادا کر لو تو نماز ادا کرنے سے رک جاؤ یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے، کیونکہ وہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان غروب ہوتا ہے، پھر اس کے بعد نماز میں (فرشتوں کی) حاضری بھی ہوتی ہے، اور وہ قبول بھی ہوتی ہے، یہاں تک کہ تم صبح کی نماز ادا کرو۔