کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر ان دو اوقات میں نماز سے منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1545
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا طَلَعَ حَاجِبُ الشَّمْسِ فَلا تُصَلُّوا حَتَّى يَبْرُزَ ، ثُمَّ صَلُّوا ، فَإِذَا غَابَ حَاجِبُ الشَّمْسِ ، فَلا تُصَلُّوا حَتَّى تَغْرُبَ ، ثُمَّ صَلُّوا ، وَلا تَحَيَّنُوا بِصَلاتِكُمْ طُلُوعَ الشَّمْسِ ، وَلا غُرُوبِهَا ، وَإِنَّهَا تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ " .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب سورج کا کنارہ نکل آئے، تو تم نماز ادا نہ کرو یہاں تک کہ وہ ظاہر ہو جائے پھر تم نماز ادا کرو پھر جب سورج کا کنارہ ڈوب جائے تم نماز ادا نہ کرو یہاں تک کہ وہ مکمل غروب ہو جائے، تو پھر تم نماز ادا کرو اور تم اپنی نماز کے لئے سورج کے طلوع ہونے یا سورج کے غروب ہونے کے وقت کو متعین نہ کرو (یعنی اس وقت میں نماز ادا نہ کرو) کیونکہ یہ شیطان کے دو سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1545
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1543»