کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے اوقات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس نماز کو، جو ہم نے ذکر کی، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس مدت کے بعد مؤخر کیا
حدیث نمبر: 1537
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، أَنَّهُمْ قَالُوا لأَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : هَلْ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمٌ؟ فَقَالَ: أَخَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعِشَاءِ ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى ذَهَبَ شَطْرُ اللَّيْلِ ، ثُمَّ جَاءَ ، فَقَالَ: " إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَلُّوا ، وَإِنَّكُمْ لَنْ تَزَالُوا فِي الصَّلاةِ مَا انْتَظَرْتُمُ الصَّلاةَ " . قَالَ أَنَسٌ : " فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى وَبِيصِ خَاتَمِهِ مِنْ فِضَّةٍ ، قَالَ: وَرَفَعَ أَنَسٌ يَدَهُ الْيُسْرَى " .
ثابت بیان کرتے ہیں: لوگوں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی انگوٹھی تھی، تو انہوں نے بتایا ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت عشاء کی نماز ادا کرنے میں تاخیر کر دی، یہاں تک کہ نصف رات گزر گئی تو پھر آپ تشریف لائے آپ نے ارشاد فرمایا: لوگ نماز ادا کر چکے ہیں اور تم لوگ جب سے نماز کا انتظار کر رہے ہو۔ اس وقت سے نماز کی حالت میں شمار ہو گے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چاندی کی انگوٹھی کی چمک کا منظر گویا کہ آج بھی میری نگاہ میں ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر یہ بات کہی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1537
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الثمر المستطاب»: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح، إبراهيم بن الحجاج السامي: ثقة، روى له النسائي، وباقي السند على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1535»