کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے اوقات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی نیت عشاء کی نماز کو رات کے نصف تک مؤخر کرنے کی تھی
حدیث نمبر: 1529
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خَازِمٍ ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَصْحَابِهِ ذَاتَ لَيْلَةٍ وَهُمْ يَنْتَظِرُونَ الْعِشَاءَ ، فَقَالَ : " صَلَّى النَّاسُ وَرَقَدُوا وَأَنْتُمْ تَنْتَظِرُونَهَا ، أَمَا إِنَّكُمْ فِي صَلاةٍ مَا انْتَظَرْتُمُوهَا " ، ثُمَّ قَالَ : " لَوْلا ضَعْفُ الضَّعِيفِ ، أَوْ كِبَرُ الْكَبِيرِ لأَخَّرْتُ هَذِهِ الصَّلاةَ إِلَى شَطْرِ اللَّيْلِ " .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے پاس تشریف لائے وہ لوگ اس وقت عشاء کا انتظار کر رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں نے نماز ادا کر بھی لی ہے، اور وہ سو بھی گئے ہیں اور تم لوگ اس کا انتظار کر رہے ہو تم جب سے اس کا انتظار کر رہے ہو۔ اس وقت سے نماز کی حالت میں شمار ہو گے۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر کمزور شخص کی کمزوری (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) عمر رسیدہ شخص کی عمر کا خیال نہ ہوتا، تو میں اس نماز کو نصف رات تک موخر کرتا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1529
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (449). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، أبو نضرة: هو المنذر بن مالك بن قطعة العبدي العوقي البصري.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1527»