کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے اوقات کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ قول "اور سورج بلند ہو" سے مراد عوالی کے آنے کے بعد ہے
حدیث نمبر: 1519
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، حَدَّثَنِي اللَّيْثُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ أَنَسٍ : أنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُصَلِّي الْعَصْرَ ، وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ حَيَّةٌ ، فِيذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْعَوَالِي ، فِيأْتِي الْعَوَالِي وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ " .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے جبکہ سورج ابھی بلند اور چمک دار ہوتا تھا پھر کوئی شخص ” عوالی “ کی طرف جاتا وہ ” عوالی “ پہنچ جاتا اور سورج ابھی بھی بلند ہوتا تھا۔