کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 1516
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ يَحْيَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ ، أَنَّ مُوسَى بْنِ سَعْدٍ الأَنْصَارِيَّ ، حَدَّثَهُ ، عَنْ حَفْصِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَصْرَ ، فَلَمْا انْصَرَفَ أَتَاهُ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سَلَمْةَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا نُرِيدُ أَنْ نَنْحَرَ جَزُورًا لَنَا ، وَنَحْنُ نُحِبُّ أَنْ تَحْضُرَهُ ، قَالَ : نَعَمْ ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْنَا مَعَهُ ، فَوَجَدْنَا الْجَزُورَ لَمْ يُنْحَرْ ، فَنُحِرَتْ ، ثُمَّ قُطِعَتْ ، ثُمَّ طُبِخَ مِنْهَا ، ثُمَّ أَكَلْنَا قَبْلَ أَنْ تَغِيبَ الشَّمْسُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو بنوسلمہ سے تعلق رکھنے والا ایک شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اس نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم اپنے اونٹ کو قربان کرنا چاہتے ہیں ہم یہ چاہتے ہیں، آپ بھی وہاں تشریف لائیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جی ہاں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے آپ کے ساتھ ہم بھی روانہ ہو گئے، تو ہم نے وہاں یہ صورت حال پائی کہ اونٹ ابھی قربان نہیں ہوا تھا پھر اسے قربان کیا گیا پھر اس کا گوشت کاٹا گیا پھر اسے پکایا گیا اور سورج غروب ہونے سے پہلے ہم نے اسے کھا بھی لیا۔