کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے اوقات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ عصر کی نماز کو مؤخر کرنا پسند ہے اور اسے جلدی پڑھنا ناپسند ہے
حدیث نمبر: 1515
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلَمْ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَوْزَاعِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبُو النَّجَاشِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ ، يَقُولُ: " كُنَّا نُصَلِّي الْعَصْرَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، ثُمَّ تُنْحَرُ الْجَزُورُ ، فَتُقْسَمُ عَشْرَ قِسَمٍ ، ثُمَّ تُطْبَخُ فَنَأْكُلُ لَحْمًا نَضِيجًا ، قَبْلَ أَنْ تَغْرُبَ الشَّمْسُ " . " وَكُنَّا نُصَلِّي الْمَغْرِبَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فِينْصَرِفُ أَحَدُنَا وَإِنَّهُ لَيَنْظُرُ إِلَى مَوْقِعِ نَبْلِهِ " .
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں عصر کی نماز ادا کر لیتے تھے پھر اس کے بعد اونٹ کو قربان کیا جاتا اور اسے دس حصوں میں تقسیم کیا جاتا اور پھر پکا دیا جاتا تھا، تو ہم سورج غروب ہونے سے پہلے وہ پکا ہوا گوشت کھا لیتے تھے اور ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں مغرب کی نماز ادا کرتے تھے اور نماز سے فارغ ہونے کے بعد کوئی شخص اپنے تیر کے گرنے کی جگہ کو دیکھ سکتا تھا (یعنی اس وقت اتنی روشنی ہوتی تھی)
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1515
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (442). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط البخاري، عبد الرحمن بن إبراهيم: ثقة، حافظ، من رجال البخاري، وباقي السند على شرطهما، أبو النجاشي: هو عطاء بن صهيب الأنصاري، وهو مولى رافع بن خديج
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1513»