کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے اوقات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ صلاة العصر کو جلدی ادا کرنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 1514
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبُخَارِيُّ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلالٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى الْمَازِنِيِّ ، عَنْ خَلادِ بْنِ خَلادٍ الأَنْصَارِيِّ ، قَالَ : صَلَّيْنَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ يَوْمًا ، ثُمَّ دَخَلْنَا عَلَى أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، فَوَجَدْنَاهُ قَائِمًا يُصَلِّي ، فَلَمْا انْصَرَفَ قُلْنَا : يَا أَبَا حَمْزَةَ ، أَيُّ صَلاةٍ صَلَّيْتَ ؟ قَالَ : الْعَصْرَ ، فَقُلْنَا : إِنَّمَا انْصَرَفْنَا الآنَ مِنَ الظُّهْرِ ، صَلَّيْنَاهَا مَعَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ أَنَسٌ : إِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي هَكَذَا ، فَلا أَتْرُكُهَا أَبَدًا " .
خلاد بن خلاد انصاری بیان کرتے ہیں: ہم نے عمر بن عبدالعزیز کی اقتداء میں ایک دن نماز ادا کی پھر ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے، تو ہم نے انہیں کھڑے ہو کر نماز ادا کرتے ہوئے پایا جب انہوں نے نماز مکمل کر لی تو ہم نے دریافت کیا: اے ابوحمزہ! یہ آپ نے کون سی نماز ادا کی ہے۔ انہوں نے جواب دیا: عصر کی ہم نے کہا: ہم تو ابھی ظہر کی نماز پڑھ کر آ رہے ہیں جو ہم نے عمر بن عبدالعزیز کی اقتداء میں ادا کی، تو سیدنا انس رضی اللہ عنہ نے بتایا میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے، وہ اس نماز کو اسی (وقت میں) طرح ادا کرتے تھے میں تو اسے کبھی ترک نہیں کروں گا۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1514
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح سنن النسائي» (496). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط خلاد بن خلاد، ترجمه البخاري في «التاريخ الكبير» 3/ 187، ولم يذكر فيه جرحاً ولا تعديلاً، وأورد له هذا الحديث من طريق أيوب بن سليمان، بهذا الإسناد، وذكره المؤلف في «الثقات» 4/ 208، وباقي رجاله ثقات.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1512»