کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: ایک دوسری روایت کا ذکر جو اس بات کی صحت کو واضح طور پر بیان کرتی ہے جو ہم نے ذکر کی ہے
حدیث نمبر: 1513
أَخْبَرَنَا الْمُفَضَّلُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْجَنَدِيُّ بِمَكَّةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَيَّاشٍ ، حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ " كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْجُمُعَةَ ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنُرِيحُ نَوَاضِحَنَا فَقُلْتُ : أَيَّةُ سَاعَةٍ تِلْكَ ؟ قَالَ : زَوَالُ الشَّمْسِ " .
امام جعفر صادق اپنے والد (امام محمد باقر) کے حوالے سے سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں جمعہ کی نماز ادا کرتے تھے پھر ہم واپس آ کر اپنے پانی لانے والے اونٹوں کو آرام کرواتے تھے۔ (امام باقر بیان کرتے ہیں) میں نے دریافت کیا: یہ کون سی گھڑی ہوتی تھی، تو انہوں نے بتایا سورج ڈھلنے کی۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1513
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (597)، «الأجوبة النافعة»: م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1511»