کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے اوقات کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر شدید گرمی میں ظہر کی نماز کو ٹھنڈا کرنے کا حکم دیا گیا
حدیث نمبر: 1510
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، مَوْلَى أَسْوَدَ بْنِ سُفِيانَ ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، وَمُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: " إِذَا كَانَ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ ، فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ " . وَذُكِرَ: وَذُكِرَ: " أَنَّ النَّارَ اشْتَكَتْ إِلَى رَبِهَا ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ: نَفْسٍ فِي الشِّتَاءِ ، وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” جب گرمی ہو، تو تم (ظہر کی) نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کی تپش کا حصہ ہے ۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ذکر کی کہ جہنم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کی، تو اس کے پروردگار نے اسے دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی ایک سانس گرمی کے موسم میں ہوتی ہے، اور ایک سانس سردی کے موسم میں ہوتی ہے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1510
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرطهما.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1508»