کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے اوقات کا بیان - اس وقت کا ذکر جو صلاة الاولیٰ کے ادا کرنے کے لیے مستحب ہے
حدیث نمبر: 1502
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي السَّرِيِّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ فَصَلَّى الظُّهْرَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ " .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے آپ نے سورج ڈھل جانے کے بعد ظہر کی نماز پڑھائی۔
حدیث نمبر: 1503
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ ، عَنْ عَوْفٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبُو الِمَنْهَالِ ، قَالَ : انْطَلَقَ أَبِي وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ ، فَدَخَلْنَا عَلَى أَبِي بَرْزَةَ ، فَقَالَ لَهُ أَبِي : حَدِّثْنَا كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي الْمَكْتُوبَةَ ؟ قَالَ : " كَانَ يُصَلِّي الْهَجِيرَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الأُولَى حِينَ تَدْحَضُ الشَّمْسُ ، وَيُصَلِّي الْعَصْرَ ، ثُمَّ يَرْجِعُ أَحَدُنَا إِلَى رَحْلِهِ فِي أَقْصَى الْمَدِينَةِ " ، قَالَ : وَنَسِيتُ مَا قَالَ فِي الْمَغْرِبِ ، قَالَ : " وَكَانَ يَسْتَحِبُّ أَنْ يُؤَخِّرَ الْعِشَاءَ الَّتِي تَدْعُونَهَا الْعَتَمَةَ ، وَكَانَ يَكْرَهُ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَالْحَدِيثَ بَعْدَهَا ، وَكَانَ يَنْفَتِلُ مِنْ صَلاةِ الْغَدَاةِ حِينَ يَعْرِفُ الرَّجُلُ جَلِيسَهُ ، وَكَانَ يَقْرَأُ بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمَائَةِ " .
ابومنہال بیان کرتے ہیں: میرے والد گئے ان کے ہمراہ میں بھی گیا ہم لوگ سیدنا ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے میرے والد نے ان سے کہا: آپ ہمیں بتائیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرض نمازیں کس طرح ادا کرتے تھے، تو انہوں نے بتایا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کی نماز جسے تم ” پہلی “ کہتے ہو۔ اس وقت ادا کرتے تھے جب سورج ڈھل جاتا تھا اور آپ عصر کی نماز اس وقت ادا کرتے تھے کہ اس کے بعد کوئی شخص مدینہ منورہ کے دور دراز کے کونے تک واپس جا سکتا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ مغرب کی نماز کے بارے میں انہوں نے جو بتایا تھا وہ میں بھول گیا ہوں انہوں نے یہ بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ بات پسند کرتے تھے کہ آپ عشاء کی نماز کو تاخیر سے ادا کریں یہ وہ نماز ہے جیسے تم لوگ ” عتمہ“ کہتے ہو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے پہلے سونے اور اس کے بعد بات چیت کرنے کو ناپسند کرتے تھے۔ صبح کی نماز پڑھ کر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فارغ ہوتے تھے، تو کوئی شخص اپنے پاس بیٹھے شخص کو پہچان سکتا تھا حالانکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ساٹھ سے لے کر ایک سو تک آیات کی تلاوت کرتے تھے۔
حدیث نمبر: 1504
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِنَّ الْحَرَّ مِنْ فِيحِ جَهَنَّمَ ، فَأَبْرِدُوا بِالصَّلاةِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” بیشک گرمی، جہنم کی تپش کا حصہ ہے، تو تم نماز کو ٹھنڈے وقت میں ادا کرو ۔“