کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے اوقات کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ فجر کی نماز کو روشن کیا جو ہم نے ذکر کی
حدیث نمبر: 1495
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَغَلَّسَ بِهَا ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَ فَأَسْفَرَ بِهَا ، ثُمَّ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلاةِ الْغَدَاةِ ؟ فِيمَا بَيْنَ صَلاتِي أَمْسِ وَالْيَوْمِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔ آپ نے اسے اندھیرے میں ادا کیا پھر اگلے دن آپ نے نماز پڑھائی تو اسے روشنی میں ادا کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: صبح کی نماز کے وقت کے بارے میں دریافت کرنے والا شخص کہاں ہے۔ (اس نماز کا وقت وہ ہے) جو ان دو نمازوں کے درمیان میں ہے، جو ہم نے گزشتہ کل اور آج ادا کی ہیں ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1495
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر (1491). تنبيه!! رقم (1491) = (1493) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده حسن، وهو مكرر (1493).
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1493»