کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز کے اوقات کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قول "تمہاری نماز کا وقت اس کے درمیان ہے جو تم نے دیکھا" سے مراد کل اور آج کی ان کی صلاۃ ہے
حدیث نمبر: 1493
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى الأُمَوِيُّ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ أَبِي سَلَمْةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ ، فَغَلَّسَ بِهَا ، ثُمَّ صَلَّى الْغَدَاةَ فَأَسْفَرَ بِهَا ، ثُمَّ قَالَ : أَيْنَ السَّائِلُ عَنْ وَقْتِ صَلاةِ الْغَدَاةِ ؟ فِيمَا بَيْنَ صَلاتِي أَمْسِ وَالْيَوْمِ " .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (ایک دن) ہمیں صبح کی نماز پڑھائی۔ آپ نے اسے اندھیرے میں ادا کیا پھر اگلے دن آپ نے اسے روشنی میں ادا کیا پھر آپ نے ارشاد فرمایا: نماز کے وقت کے بارے میں سوال کرنے والا شخص کہاں ہے؟ (اس نماز کا وقت) ان دو نمازوں کے درمیان ہے، جو ہم نے گزشتہ کل اور آج ادا کی ہیں۔