کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے اوقات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو علم کی صنعت میں مہارت نہ رکھنے والے کو یہ وہم دلاتی ہے کہ فجر کی نماز کو روشن کرنا اندھیرے میں پڑھنے سے بہتر ہے
حدیث نمبر: 1491
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ الْعَدَنِيُّ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سُفِيانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ ، عَنْ رَافِعِ بْنِ خَدِيجٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَنَّهُ قَالَ : " أَسْفِرُوا بِصَلاةِ الصُّبْحِ ، فَإِنَّهُ أَعْظَمُ لِلأَجْرِ " ، أَوْ قَالَ : " أَعْظَمُ لأُجُورِكُمْ " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، بِقَوْلِهِ : " أَسْفِرُوا " فِي اللَّيَالِي الْمُقْمِرَةِ الَّتِي لا يَتَبَيَّنُ فِيهَا وُضُوحُ طُلُوعِ الْفَجْرِ ، لِئَلا يُؤَدِّي الْمَرْءُ صَلاةَ الصُّبْحِ إِلا بَعْدَ التَّيَقُّنِ بِالإِسْفَارِ بِطُلُوعِ الْفَجْرِ ، فَإِنَّ الصَّلاةَ إِذَا أُدِّيَتْ كَمَا وَصَفْنَا ، كَانَ أَعْظَمَ لِلأَجْرِ مِنْ أَنْ تُصَلَّى عَلَى غَيْرِ يَقِينٍ مِنْ طُلُوعِ الْفَجْرِ .
سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” صبح کی نماز روشن کر کے پڑھو، کیونکہ یہ زیادہ اجر کا باعث ہے ۔“ راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں ” تمہارے اجور کو زیادہ کرنے کا باعث ہے ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اس فرمان ” تم روشنی کرو“ اس سے مراد چاندنی راتیں لی ہیں، جن میں صبح صادق کا طلوع ہونا واضح نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی صبح کی نماز اس وقت ادا کرے جب اسے صبح صادق طلوع ہونے کی وجہ سے روشنی ہو جانے کا یقین ہو جائے کیونکہ جب نماز اس طریقے سے ادا کی جائے گی جو ہم نے بیان کی ہے، تو یہ اس کے مقابلے میں زیادہ اجر کا باعث ہو گی کہ آدمی صبح صادق طلوع ہونے کا یقین نہ ہونے کے ہمراہ نماز ادا کرے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1491
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني حسن صحيح - انظر ما قبله. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1489»