کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز کے اوقات کا بیان - اس بات کا ذکر کہ جب امراء نماز کو اس کے اوقات سے مؤخر کریں تو آدمی پر کیا لازم ہے
حدیث نمبر: 1482
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَاءِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " كَيْفَ أَنْتَ إِذَا بَقِيتَ فِي قَوْمٍ يُؤَخِّرُونَ الصَّلاةَ عَنْ وَقْتِهَا " ، قَالَ : كَيْفَ أَفْعَلُ ؟ قَالَ : " صَلِّ الصَّلاةَ لِوَقْتِهَا ، فَإِذَا أَدْرَكْتَهُمْ لَمْ يُصَلُّوا فَصَلِّ مَعَهُمْ ، وَلا تَقُلْ إِنِّي قَدْ صَلَّيْتُ فَلا أُصَلِّي " .
سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ” اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا، جب تم ایسے لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے جو نمازوں کو ان کے مخصوص وقت سے تاخیر سے ادا کریں گے۔ سیدنا ابوذر نے دریافت کیا: پھر میں کیا کروں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم نماز کو اس کے مخصوص وقت میں ادا کر لینا اور اگر تم ان لوگوں کو پاؤ اور انہوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی، تو تم ان کے ساتھ بھی نماز ادا کر لینا تم یہ نہ کہنا کہ میں نماز پڑھ چکا ہوں۔ اس لئے اب نماز نہیں پڑھوں گا ۔“
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1482
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «صحيح أبي داود» (458): م. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، عبد الله بن الصامت: ثقة، من رجال مسلم، وباقي السند على شرطهما، أبو العالية البراء: هو زياد بن فيروز، وقيل: زياد بن أذينة، وقيل: كلثوم، وقيل: لقبه أذينة، ولقب بالبرَّاء لأنه كان يبري النبل.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1480»