کتب حدیث ›
صحیح ابن حبان › ابواب
› باب: نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - ساتویں خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بغیر بھولنے یا سونے کے، نماز کو اس کے وقت کے نکلنے تک ترک کرنے والا اس سے کفر نہیں کرتا جو اسلام کے مخالف ہو
حدیث نمبر: 1461
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى الذُّهْلِيُّ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ : سِرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمْا كَانَ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ عَرَّسْنَا ، فَغَلَبَتْنَا أَعْيُنُنَا ، وَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ ، فَكَانَ الرَّجُلُ يَقُومُ إِلَى وَضُوئِهِ دَهِشًا ، فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَتَوَضَّئُوا ، ثُمَّ أَمَرَ بِلالا فَأَذَّنَ ، ثُمَّ صَلُّوا رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ ، ثُمَّ أَمَرَهُ ، فَأَقَامَ فَصَلَّى الْفَجْرَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَرَّطْنَا ، أَفَلا نُعِيدُهَا لِوَقْتِهَا مِنَ الْغَدِ ؟ فَقَالَ : " يَنْهَاكُمْ رَبُّكُمْ عَنِ الرِّبَا ، وَيَقْبَلُهُ مِنْكُمْ ؟ إِنَّمَا التَّفْرِيطُ فِي الْيَقَظَةِ " .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ سفر کر رہے تھے جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہم نے پڑاؤ کر لیا ہماری آنکھ لگ گئی ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا ہر شخص خوف زدہ ہو کر وضو کے لئے اٹھا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو ہدایت کی انہوں نے وضو کر لیا پھر آپ نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا انہوں نے اذان دی پھر ان لوگوں نے فجر کی دو رکعات ادا کیں پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا۔ انہوں نے اقامت کہی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز پڑھائی۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم سے کوتاہی ہوئی ہے۔ کیا ہم اس نماز کو کل اس کے وقت میں دوبارہ ادا نہ کریں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہارا پروردگار تمہیں سود سے منع کرتا ہے، تو کیا وہ خود تم سے اسے قبول کر لے گا؟ کوتاہی جاگنے کے عالم میں ہوتی ہے۔