کتب حدیثصحیح ابن حبانابوابباب: نماز چھوڑنے پر وعید کا بیان - چھٹی خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ بغیر عذر کے جان بوجھ کر نماز ترک کرنے والا اس سے کفر کا اطلاق نہیں ہوتا جو اسے ملت اسلام سے نکال دے
حدیث نمبر: 1460
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبَاحٍ ، عَنْ أَبِي قَتَادَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ فِي النَّوْمِ تَفْرِيطٌ ، إِنَّمَا التَّفْرِيطُ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاةَ حَتَّى يَجِيءَ وَقْتُ صَلاةٍ أُخْرَى " . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ : فِي إِطْلاقِ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ التَّفْرِيطَ عَلَى مَنْ لَمْ يُصَلِّ الصَّلاةَ حَتَّى دَخَلَ وَقْتُ صَلاةٍ أُخْرَى بَيَانٌ وَاضِحٌ أَنَّهُ لَمْ يَكْفُرْ بِفِعْلِهِ ذَلِكَ ، إِذْ لَوْ كَانَ كَذَلِكَ ، لَمْ يُطْلِقْ عَلَيْهِ اسْمُ التَّأْخِيرِ وَالتَّقْصِيرِ دُونَ إِطْلاقِ الْكُفْرِ " .
سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ” نیند میں تفریط نہیں ہے تفریط اس شخص کے لئے ہے، جو اس وقت تک نماز ادا نہیں کرتا جب تک دوسری نماز کا وقت نہیں آ جاتا ۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں لفظ تفریط اس شخص کیلئے استعمال کیا ہے، جو نماز کو ادا نہیں کرتا یہاں تک کہ اگلی نماز کا وقت ہو جاتا ہے تو یہ اس بات کا واضح بیان ہے کہ ایسا کرنے والا شخص کافر نہیں ہو گا کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس فعل کیلئے کفر کا لفظ استعمال کرنے کی بجائے تاخیر یا کوتاہی کا لفظ استعمال نہ کرتے۔
حوالہ حدیث صحیح ابن حبان / كتاب الصلاة / حدیث: 1460
درجۂ حدیث محدثین: فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح - «الإرواء» (1/ 294)، «صحيح أبي داود» (465). فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط مسلم، عبد الله: هو ابن المبارك.
تخریج حدیث «رقم طبعة با وزير 1458»